اردوئے معلیٰ

Search

ہو گئے نطق کے پیرایۂ اِظہار تمام

حد سے باہَر ہی رہے آپ کے انوار تمام

 

ساعتِ رؤیتِ اوّل ہی تھی ایمان نواز

خود ہی اقرار میں ڈھل جاتے تھے انکار تمام

 

آپ کی نعت ہے تدبیرِ شفائے ُکلی

آپ کے ذِکر سے کھِل اُٹھتے ہیں بیمار تمام

 

روشنی، رنگ، یہ نعتیں ، یہ درود اور سلام

آپ کے آنے کے ہوتے ہیں یہ آثار تمام

 

کِس قدر انظف و اطہر ہیں ترے اہلِ بیت

کِس قدر صادق و صابر ہیں ترے یار تمام

 

آپ کے اِذن پہ موقوف ہے طیبہ کا سفر

در ہی بن جائے گی تقدیر کی دیوار تمام

 

‘​‘آمدِ سیّدِ کونین کا اعلان ہے ’’ ُکن​

بہرِ ترحیب ہیں یہ ثابت و سیّار تمام

 

نور بر دوش ہے یہ سارا نظامِ فلکی

رنگ بردار ہیں یہ آپ سے ُگلزار تمام

 

سُن کے ُغفران کا مژدہ سَر دربارِ کرم

آ کے بیٹھے ہیں ترے در پہ گنہگار تمام

 

آپ کا درد ہی چھایا رہا تا حدِّ طلب

آنے کو آتے رہے ناصح و غمخوار تمام

 

جاں دمیدہ ہیں ترے نامِ کرم کے وارث

سر خمیدہ ہیں ترے سامنے سردار تمام

 

شامِ احساس کو چھو جائے تری یاد کا لمس

صبحِ توفیق کو ملتا رہے دیدار تمام

 

مزرعِ دل پہ ہے مقصودؔ بہاروں کا نزول

پھول بن بن کے کھِلے جاتے ہیں اشعار تمام

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ