اردوئے معلیٰ

ہو گیا روشن جہاں ماہِ رسالت آ گئے

عالمیں کے واسطے وہ بن کے رحمت آ گئے

 

روزِ محشر کام آئے گی شفاعت آپ کی

عاصیوں کے واسطے بن کر مسرت آ گئے

 

ہر طرف پھیلی ہوئی تھیں کفر کی تاریکیاں

نورِ وحدت کے چراغ ان کی بدولت آ گئے

 

اِذنِ طیبہ مل گیا ہم پر ہوا لطف و کرم

آپ کے دربار میں بہرِ زیارت آ گئے

 

کچھ نہ کہہ پائے کبھی سرکار کی دہلیز پر

لب رہے خاموش اور اشکِ ندامت آ گئے

 

جس گھڑی وہ چاند اترا آمنہ کی گود میں

دیکھنے کو سارے قدسی ان کی صورت آ گئے

 

ہاتھ میں کاسہ لئے جب ناز نے کی التجا

شاہِ طیبہ پوری کرنے کو ضرورت آ گئے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔