ہُوئی تھی اُن سے ملاقات خاکِ طیبہ کی

ہُوئی تھی اُن سے ملاقات خاکِ طیبہ کی

بجا ہے وجہِ مباہات خاک طیبہ کی

 

مجھے بھی زعم ہے صدیوں کے ربطِ نسبت کا

کہ پور پور میں ہے ذات خاکِ طیبہ کی

 

گراں نہ ہو تو مرے زائرینِ فرخندہ

سناؤ پھر سے کوئی بات خاکِ طیبہ کی

 

زباں کو ذائقہ، آنکھوں کو نُور بانٹتی ہے

عجب ہے طُرفہ مُدارات خاکِ طیبہ کی

 

اُداس شب میں کرن کے نصیب جاگتے ہیں

ضیا نواز ہے خود رات خاکِ طیبہ کی

 

فروغِ دید، نمودِ شفق، طلوعِ سحر

کرن کرن ہیں کرامات خاکِ طیبہ کی

 

بحال رہتا ہے اُس کے فقیرِ راہ کا رزق

جہاں میں عام ہے خیرات خاکِ طیبہ کی

 

کفِ طلب سے ہی دامن میں جا اُترتی ہیں

کہ دیدنی ہیں عنایات خاکِ طیبہ کی

 

کفن سے باندھنا قرطاسِ نعت میں رکھ کر

مرے عزیزو! یہ سوغات خاکِ طیبہ کی

 

اسی لیے تو ہے مقصودؔؔ سانس سانس درود

یہ زندگی ہے مکافات خاکِ طیبہ کی

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

تیرے قدموں میں آنا میرا کام تھا
ہم تو آواز میں آواز ملاتے ہیں میاں
طیبہ کے مسافر کو کہہ دو کہ سنبھل جائے
جب سے ہوا وہ گل چمن آرائے مدینہ
جب مسجد نبوی کے مینار نظر آئے
اعلیٰ واطہر و اکمل وکامل صلی اللہ علیٰ محمد
جو ترے در پہ، دوانے سے آئے بیٹھے ہیں
ایسے ہو حُسنِ خاتمہء جاں نثارِ عشق
مرے آقا کی مسجد کے منارے داد دیتے ہیں
یا نبی نظرِ کرم فرمانا اے حسنین کے نانا

اشتہارات