ہیچ ہیں دونوں جہاں میری نظر کے سامنے

ہیچ ہیں دونوں جہاں میری نظر کے سامنے

میں کھڑا ہوں روضہ خیرالبشر کے سامنے

 

جھلملانے لگ گیئں روضے کی روشن جالیاں

اک نیا منظر ہے میری چشمِ تر کے سامنے

 

اڑ گئی مرے گناہوں کی سیاہی اڑ گئی

ظلمتِ شب جس طرح نورِ سحر کے سامنے

 

مانگتا ہوں جس قدر ملتا ہے کچھ اس سے سوا

ہر دعا شرمندہ رہتی ہے اثر کے سامنے

 

اک جگہ پر دونوں محوِ استراحت ہی نہیں

گھر بھی ہے صدیق کا حضرت کے گھر کے سامنے

 

کس نے کار آمد بنایا زندگی اور موت کو

مقصد ایسا رکھ دیا نوعِ بشر کے سامنے

 

میں اسد صحنِ حرم میں بیٹھتا ہوں اس جگہ

ہو جہاں سے گنبدِ خَضرا نظر کے سامنے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مرے محبوب، محبوبِ زماںؐ ہیں
نظر کا دھوکہ ہے نام و نمود لا موجود
اے ختمِ رسل نورِ خدا شاہِ مدینہ
شعبِ احساس میں ہے نور فِشاں گنبدِ سبز
حشر میں پھیلے گا جب سایۂ غُفرانِ وسیع
حرف، احساس سے فائق نہیں ہونے والے
سب سے اعلٰی ہیں سب سے برتر ہیں
پردۂ ہجر نگاہوں سے سرکتا دیکھوں
مجھ کو یقیں ہے آئے گی امید بر کبھی
یہ جو میری آنکھیں ہیں میرے رب کی جانب سے مصطفےٰ کا صدقہ ہیں

اشتہارات