ہیں آپ سرورِ کونین یارسول اللہ

 

ہیں آپ سرورِ کونین یارسول اللہ

عطا ہو صدقہء حسنینؓ یارسول اللہ

 

نہ تاج و تخت کی خواہش ، نہ مال و زر کی طلب

ہو سر پہ آپ کی نعلین یارسول اللہ

 

ہر ایک اس کا ہے شاہد کہ غم کے ماروں کو

ملا ہے آپ سے سکھ چین یارسول اللہ

 

مجھے دکھائیے طیبہ کے پھر گلی کوچے

بلائیے مجھے حرمین یارسول اللہ

 

حضور آپ کے اذکار ہی تو رہتے ہیں

فلک سے تا سرِ قوسین یارسول اللہ

 

تمہارے در سے غلامی کی کیا سند پائی

ملی ہے دولتِ دارین یارسول اللہ

 

حضور پھر سے ہو دیدارِ گنبدِ خضریٰ

ترس رہے ہیں مرے نین یارسول اللہ

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ