ہیں آپ مصطفی بھی،ہیں آپ مجتبیٰ بھی

ہیں آپ مصطفی بھی،ہیں آپ مجتبیٰ بھی

اوصاف کیا گِنوں میں، ہیں نورِ کبریا بھی

آصف میں سوچتا ہوں ہو گا وہ وقت کیسا

جب ہوں گے روبرو وہ، اور آئے گی قضا بھی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

حالِ دل پر جو عنایت کی نظر ہو جائے
اس درجہ ہے ضعف جاں گزائے اسلام
حبیبِ کبریاؐ سایہ کُناں ہو
مرے پیشِ نظر طیبہ نگر ہے
اُن کی خوشبو دل و نظر کے لیے
محمدؐ آپ کا ہے نامِ نامی
اُخوت اور چاہت آپؐ ہی کے دم قدم سے ہے
قسمت نے کسی دن جو پہنچایا مدینے میں
’’چاند شق ہو پیڑ بولیں جانور سجدہ کریں ‘‘
’’ہے تم سے عالم پُر ضیا ماہِ عجم مہرِ عرب‘‘

اشتہارات