اردوئے معلیٰ

ہیں حبیبِ خدا مدینے میں

ہیں حبیبِ خدا مدینے میں

سب کے مشکل کُشا مدینے میں

 

خوش نصیبوں نے جا کے دیکھی ہے

نور کی اِنتہا مدینے میں

 

رات دن ہر گھڑی برستا ہے

ابرِ جود و عطا مدینے میں

 

وقت آئے کہ جا کے میں بھی کروں

اُن کی مدح و ثنا مدینے میں

 

اُن کے کوچے میں جا کے رہتے ہیں

شاہ بن کر گدا مدینے میں

 

حاصلِ زندگی ہے یہ ارماں

ہو مرا خاتمہ مدینے میں

 

کاش!مل جائے مجھ کو بھی آصف

بہرِ مدفن جگہ مدینے میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ