ہیں سر پہ مرے احمدؐ مشکل کشا کے ہاتھ

 

ہیں سر پہ مرے احمدؐ مشکل کشا کے ہاتھ

دیکھے تو مجھ کو نارِ جہنم لگا کے ہاتھ

 

منظر نظر کے سامنے ہوتا ہے نور کا

لیتا ہوں جب بھی نام مدینہ اُٹھا کے ہاتھ

 

میرے نبیؐ کے حسن میں کعبے کا نور ہے

جاتے ہیں اُس کی دید کو عاشق کٹا کے ہاتھ

 

لب پر مرے درودِ محمدؐ ہو اُس گھڑی

زنجیر زندگی کی جو کھولے، قضا کے ہاتھ

 

یارب مری حیات کا جب ہو چراغ گلؔ

محراب مصطفے میں کھڑا ہوں اُٹھا کے ہاتھ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

زمین جس پہ نبوت کے تاجدار چلے
سرکا رکے جلووں سے معمور نظر رکھئیے
نعت کہنا مری قسمت کرنا
لے چلا مجھ کو طالعِ بیدار
جب بھی نگاہ کی ہے کِسی پر حضور نے
چلے زمِین سے جب آپ لامکاں کے لئے
حسن تمام و لطف سراپا تمہی تو ہو
پائندہ تیرا نور اے شمع حرم رہے
نعلین گاہِ شاہ سے لف کر دیئے گئے
شاداں ہیں دونوں عالم، میلادِ مصطفیٰ پر

اشتہارات