اردوئے معلیٰ

Search

ہیں شہ بحر و بر مدینے میں

کیا غریبی کا ڈر مدینے میں

 

چل کے ہونا نہ تو کہیں بیتاب

دیکھ اے چشم تر مدینے میں

 

ذرے ذرے میں ہے جمال ان کا

مست ہے ہر نظر مدینے میں

 

کاش تا زندگی گزرتے رہیں

میرے شام و سحر مدینے میں

 

میں یہاں پر پڑا ہوں زار و نزار

دل ہے المختصر مدینے میں

 

کیا کبھی زندگی میں ممکن ہے

شب یہاں ہو سحر مدینے میں

 

ہے خدا سے یہی دعا بہزادؔ

زندگی ہو بسر مدینے میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ