اردوئے معلیٰ

Search

ہیں مرے وجود میں موجزن مری الفتوں کی نشانیاں

نہ ہوئیں نصیب جو قربتیں انہیں قربتوں کی نشانیاں

 

تھکی ہاری شکل نڈھال سی کسی امتحاں کے سوال سی

مرے جسم و جان پہ ثبت ہیں تری فرقتوں کی نشانیاں

 

کبھی آنکھیں غیظ سے تربتر کبھی لعن طعن زبان پر

مجھے میری جاں سے عزیز ہیں تری نفرتوں کی نشانیاں

 

ہو وہ بوئے گل کہ ہو راگنی ہو وہ آبشار کہ چاندنی

ہیں قدم قدم پہ سجی ہوئیں تری نزہتوں کی نشانیاں

 

کئی بار روز کئی جگہ مری روح پڑھتی ہے فاتحہ

مرے پورے جسم میں دفن ہیں مری حسرتوں کی نشانیاں

 

کہیں ناچتی ہوئیں مستیاں کہیں بھوک سے ہیں لڑائیاں

کہیں دولتوں کے مظاہرے کہیں غربتوں کی نشانیاں

 

وہ زمین ہو کہ ہو آسماں وہ پہاڑ ہوں کہ ہوں وادیاں

ہیں چہار سمت مرے خدا تری رحمتوں کی نشانیاں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ