اردوئے معلیٰ

ہے آب آب موج بپھرنے کے باوجود

دنیا سمٹ رہی ہے، بکھرنے کے باوجود

 

راہِ فنا پہ لوگ سدا گامزن رہے

ہر ہر نفس پہ موت سے ڈرنے کے باوجود

 

اس بحرِ کائنات میں ہر کشتی انا

غرقاب ہو گئی ہے ابھرنے کے باوجود

 

شاید پڑی ہے رات بھی سارے چمن پہ اوس

بھیگے ہوئے ہیں پھول نکھرنے کے باوجود

 

زیرِ قدم ہے چاند، ستارے ہیں گردِ راہ

دھرتی پہ آسماںِ سے اترنے کے باوجود

 

میں اس مقام پر تو نہیں آ گیا کہیں

ہو گی نہ صبح رات گزرنے کے باوجود

 

الفاظ و صوت و رنگ و تصور کے روپ میں

زندہ ہیں لوگ آج بھی مرنے کے باوجود

 

ابہامِ آگہی سے میں اپنے وجود کا

اقرار کر رہا ہوں ، مکرنے کے باوجود

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات