ہے آب آب موج بپھرنے کے باوجود

ہے آب آب موج بپھرنے کے باوجود

دنیا سمٹ رہی ہے، بکھرنے کے باوجود

 

راہِ فنا پہ لوگ سدا گامزن رہے

ہر ہر نفس پہ موت سے ڈرنے کے باوجود

 

اس بحرِ کائنات میں ہر کشتی انا

غرقاب ہو گئی ہے ابھرنے کے باوجود

 

شاید پڑی ہے رات بھی سارے چمن پہ اوس

بھیگے ہوئے ہیں پھول نکھرنے کے باوجود

 

زیرِ قدم ہے چاند، ستارے ہیں گردِ راہ

دھرتی پہ آسماںِ سے اترنے کے باوجود

 

میں اس مقام پر تو نہیں آ گیا کہیں

ہو گی نہ صبح رات گزرنے کے باوجود

 

الفاظ و صوت و رنگ و تصور کے روپ میں

زندہ ہیں لوگ آج بھی مرنے کے باوجود

 

ابہامِ آگہی سے میں اپنے وجود کا

اقرار کر رہا ہوں ، مکرنے کے باوجود

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

میں مر مٹا تو وہ سمجھا یہ انتہا تھی مری
ضبط کے امتحان سے نکلا
بجائے کوئی شہنائی مجھے اچھا نہیں لگتا
لوگوں کے دُور کر کے غمِ روز گارِ عشق
یاقوت لب کو آنکھ کو تارہ نہ کہہ سکیں
تمام اَن کہی باتوں کا ترجمہ کر کے
اس لیے بھی دُعا سلام نہیں
اِک ذرہِ حقیر سے کمتر ہے میری ذات
پا یا گیا ہے اور نہ کھویا گیا مجھے
اب اُس کی آرزو میں نہ رہیئے تمام عمر

اشتہارات