ہے اُمت آپؐ کی خوار و زبوں و منتشر آقاؐ

ہے اُمت آپؐ کی خوار و زبوں و منتشر آقاؐ

ہجومِ بیکساں خانہ بدوش و در بہ در آقاؐ

مسلماں ایک دوجے کا ظفرؔ یاں خوں بہاتے ہیں

یاں مظلوموں کا دامن خون سے ہے تر بتر آقاؐ

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مولیٰ گلبن رحمت زہرا سبطین اس کی کلیاں پھول
ذرہ کرے خورشید کی مدحت تو عجب کیا
برسائے وہ آزادہ روی نے جھالے
اُنؐ کی را ہوں میں کہکشاں دیکھوں
درِ سرکارؐ تک رسائی ہو
اِک زمانہ فراق میں گزرا
وہی سردارِ جُملہ مُرسلاں ہیں
مرے سرکارؐ ختم المُرسلیںؐ ہیں
بھاگ جگے گا ہم بھی مدینے جائیں گے ان شاءاللہ
’’شرک ٹھہرے جس میں تعظیمِ حبیب‘‘