ہے آرزُو کہ اُٹھوں اور سُکون پا جاؤں

ہے آرزُو کہ اُٹھوں اور سُکون پا جاؤں

نبی کی نعت کہوں اور سُکون پا جاؤں

 

نبی کا راستہ یارو! ہدایتوں والا

اِسی پہ میں بھی چلوں اور سُکون پا جاؤں

 

حضور شہرِ مدینہ بہشت میرے لیے

ہمیشہ اس میں رہوں اور سُکون پا جاؤں

 

نبی کے نام سے پہچانا جاؤں دُنیا میں

جیوں تو ایسے جیوں اور سُکون پا جاؤں

 

بروزِ حشر نبی کے ہی دستِ اقدس سے

مئے نجات پیؤں اور سُکون پا جاؤں

 

نبی کی قُربتوں میں بیٹھ کر رضاؔ میں بھی

دُرودِ پاک پڑھوں اور سُکون پا جاؤں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اِک صنفِ سُخن جس کا تعلق ہے نبی سے
ہر چند مدح اس کی سب اہلِ ہنر کریں
شعرِ مدحت کی مجھے کاش یہ قیمت دی جائے
کب علم میں اتنی وسعت ہی
ہر آنکھ با وضو ہے زباں پر سلام ہے
ہمہ والعصر اور والدّھر ہے عظمت محمدؐ کی
سرکارؐ کے کرم سے یہ فیضانِ نعت ہے
غم سبھی راحت و تسکین میں ڈھل جاتے ہیں
دُنیا میں حق عیاں ہے رِسالت مآب سے
تری نگاہ سے ذرے بھی مہر و ماہ بنے