اردوئے معلیٰ

ہے اگرچہ کارِ مشکل شہِ دوسرا کی مدحت

 

ہے اگرچہ کارِ مشکل شہِ دوسرا کی مدحت

مرے قلب و جاں کو لیکن اسی مشغلے میں راحت

 

وہ نبی اُمی ایسا کہ نہیں ہے کوئی اس سا

وہ نگینۂ نبوت وہ تتمۂ رسالت

 

وہ ہے حسن کا مرقع وہ ہے خلق کا نمونہ

زہے پُر جمال سیرت زہے تابدار سیرت

 

کہوں اس کو ماہِ کامل تو ہے ناقص استعارہ

نہیں کوئی شے بھی ایسی جسے دوں میں اس سے نسبت

 

اسی آفتاب سے ہے یہ ضیائے علم وعرفاں

ہوا مستنیر اسی سے یہ جہانِ جہل و ظلمت

 

تہِ قعرِ صد مذلت تھا ذلیل ابنِ آدم

وہی دستگیر پہنچا تو ملی ہے اس کو رفعت

 

بہی خواہِ بندگاں وہ کوئی دوست ہو کہ دشمن

وہ کریم اور بے حد وہ رحیم بے نہایت

 

جو کتاب اس پہ اتری وہ ہے لازوال و کامل

ہے چراغِ راہ و منزل بخدا ہر ایک آیت

 

ہے جو حرف حرف حکمت تو کلام ایسا معجز

اسے لاکھ بار پڑھئے تو نہ کم ہو شوق و رغبت

 

تری مغفرت کا امکاں ہے نظرؔ حساب کے دن

وہی تاجدارِ بطحا کو کریں تری شفاعت

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ