اردوئے معلیٰ

ہے ایک عمر اور اس میں شریک سب میرے

 

ہے ایک عمر اور اس میں شریک سب میرے

مِرے لیے بھی تو ہوتے یہ روز و شب میرے

 

خموش ہوں تو مجھے اتنا کم جواز نہ جان

مِرے بیان سے باہر بھی ہیں سبب میرے

 

جو آسماں پہ ستارے دکھائی دیتے ہیں

یہ سارے پھول ہیں تیرے ، یہ زخم سب میرے

 

کسی کے عکس سے بچھڑے تو پھر خبر نہ ہوئی

کہاں گئے وہ بھلا آئینے عجب میرے

 

وہ جس سفر پہ گیا ہے ، اگر پلٹ آیا

گمان ہے کہ لے آئے گا چشم و لب میرے

 

ہر آن بڑھتا ہی جاتا ہے رفتگاں کا ہجوم

ہوا نے دیکھ لیے ہیں چراغ سب میرے

 

تھے بے شمار مگر شعر میں اکائی ہوئے

جمال زندگی کرنے کے سارے ڈھب میرے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ