ہے ایک عمر اور اس میں شریک سب میرے

 

ہے ایک عمر اور اس میں شریک سب میرے

مِرے لیے بھی تو ہوتے یہ روز و شب میرے

 

خموش ہوں تو مجھے اتنا کم جواز نہ جان

مِرے بیان سے باہر بھی ہیں سبب میرے

 

جو آسماں پہ ستارے دکھائی دیتے ہیں

یہ سارے پھول ہیں تیرے ، یہ زخم سب میرے

 

کسی کے عکس سے بچھڑے تو پھر خبر نہ ہوئی

کہاں گئے وہ بھلا آئینے عجب میرے

 

وہ جس سفر پہ گیا ہے ، اگر پلٹ آیا

گمان ہے کہ لے آئے گا چشم و لب میرے

 

ہر آن بڑھتا ہی جاتا ہے رفتگاں کا ہجوم

ہوا نے دیکھ لیے ہیں چراغ سب میرے

 

تھے بے شمار مگر شعر میں اکائی ہوئے

جمال زندگی کرنے کے سارے ڈھب میرے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

راز در پردۂ دستار و قبا جانتی ہے
پتھر ہی رہو، شیشہ نہ بنو
مٹی سنوار کر مری، دیپک میں ڈھال دے
مانا کہ عرضِ حال کے قائل نہیں تھے ہم
وحشتوں کی سبیل ہوتے تھے
تم مری زندگی میں بھی نہیں ہو
میری خواہش ہے پراندہ ، مرا چاوٗ کنگن
اے وقت ذرا تھم جا، یہ کیسی روانی ہے
کھڑے ہیں مجھکو خریدار دیکھنے کے لیے
ماہِ کامل نہ سہی پاس ، ستارہ کوئی ہے