اردو معلی copy
(ہمارا نصب العین ، ادب اثاثہ کا تحفظ)

ہے ایک عمر اور اس میں شریک سب میرے

 

ہے ایک عمر اور اس میں شریک سب میرے

مِرے لیے بھی تو ہوتے یہ روز و شب میرے

 

خموش ہوں تو مجھے اتنا کم جواز نہ جان

مِرے بیان سے باہر بھی ہیں سبب میرے

 

جو آسماں پہ ستارے دکھائی دیتے ہیں

یہ سارے پھول ہیں تیرے ، یہ زخم سب میرے

 

کسی کے عکس سے بچھڑے تو پھر خبر نہ ہوئی

کہاں گئے وہ بھلا آئینے عجب میرے

 

وہ جس سفر پہ گیا ہے ، اگر پلٹ آیا

گمان ہے کہ لے آئے گا چشم و لب میرے

 

ہر آن بڑھتا ہی جاتا ہے رفتگاں کا ہجوم

ہوا نے دیکھ لیے ہیں چراغ سب میرے

 

تھے بے شمار مگر شعر میں اکائی ہوئے

جمال زندگی کرنے کے سارے ڈھب میرے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

تنگئ رزق سے ہلکان رکھا جائے گا کیا
تجھی سے ابتدا ہے تو ہی اک دن انتہا ہو گا
بن گئے ہیں گلے کا ہار ترے
اک بہانہ تھا شام سے پہلے
ڈر لگتا ہے دریا کی طغیانی سے
تری نظر نے مرے قلب و جاں کے موسم میں
مری آنکھوں پہ حلقے پڑ گئے ہیں
اک روز پتلیوں سے ہٹا دی گئی تھی نیند
دعائیں مانگیں ہیں مدتوں تک جھکا کے سر ہاتھ اٹھا اٹھا کر
سمجھو کہ ہجرت کے طلسمات میں گم ہیں