اردوئے معلیٰ

ہے تری رہ گزر شہ نواب

میری جان و جگر شہ نواب

 

میں بھی زندان ہجر سے نکلوں

مہرباں ہوں اگر شہ نواب

 

رشک مہتاب ہے تری چوکھٹ

نور ہے تیرا گھر شہ نواب

 

من کی دنیا اجال دیتی ہے

آپکی اک نظر شہ نواب

 

تیرے قدموں میں بیٹھ کر پایا

خود کو افلاک پر شہ نواب

 

مرہم لطف کا سوالی ہے

میرا زخم جگر شہ نواب

 

پیکرِ رشد ، منبعِ فیضان

ہادی و راہبر شہ نواب

 

یاد آتے ہیں شبر و شبیر

آپ کو دیکھ کر شہ نواب

 

بحر جود و سخا نظر تیری

چشمۂ فیض در شہ نواب

 

پاسبانی کو آپکے گھر کی

آئے خیر البشر شہ نواب

 

تا قیامت ہو بارش رحمت

آپکی آل پر شہ نواب

 

کون ہے مصطفی کا لختِ جگر؟

سنیے! المختصر، شہ نواب

 

طلعت مہر و ماہ کا باعث

ہے تری خاک در شہ نواب

 

آرزو ہے کہ ہر گھڑی ہوں صدف

میرے پیشِ نظر شہِ نوّاب

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات