اردوئے معلیٰ

ہے جن کی خاکِ پا رُخِ مہ پر لگی ہوئی

ہے جن کی خاکِ پا رُخِ مہ پر لگی ہوئی

اُن کی لگن ہے دل کو برابر لگی ہوئی

 

شاہِ اُمم لُٹائے چلے جا رہے ہیں جام

پیاسوں کی بھیڑ ہے سرِ کوثر لگی ہوئی

 

زہراؓ ، حسینؓ اور حسنؓ کا غلام ہوں

مہرِ علی کی مُہر ہے مجھ پر لگی ہوئی

 

قربان اے خیالِ رُخِ مصطفیٰ ! ترے

رونق ہے ایک ذہن کے اندر لگی ہوئی

 

ٹکر نہ لے نبی کی شریعت سے، ہوش کر!

دوزخ میں جھونکتی ہے ، یہ ٹھوکر لگی ہوئی

 

میرا کفن ہو تارِ ادب سے بُنا ہُوا

ہو ساتھ التماس کی جھالر لگی ہوئی

 

یادِ رسولِ پاک میں ہر آنکھ تر رہے

اشکوں کی اک سبیل ہو گھر گھر لگی ہوئی

 

آقا ! بَلائے حِرص و حَسد سے بچائیے

پیچھے یہ سب کے ہاتھ ہے دھو کر لگی ہوئی

 

تکتے ہیں جس کو شمس و قمر رات دن نصیرؔ

اپنی نظر بھی ہے اُسی در پر لگی ہوئی

 

کہتے ہیں جس کو عشق وہ اک آگ ہے نصیرؔ

بجھتی نہیں سُنی ہے یہ اکثر ، لگی ہوئی

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ