ہے حسن زندگی کا، حسن کلام تیرا

ہے حسن زندگی کا، حسن کلام تیرا

دنیا کے رنگ و بو میں قائم نظام تیرا

 

تو لا شریک خالق، رحمت وہ دوجہاں کا

جس ذات بے بدل پر اترا کلام تیرا

 

مومن پہ تیری رحمت برسی، برس رہی ہے

بے دین پر کرم بھی ہوتا ہے عام تیرا

 

گوشۂ مری نظر میں ایسا نہیں ہے کوئی

ہوتا نہیں ہے جس جا، مولا قیام تیرا

 

میں گل کی خوش نمو میں تیری عطا ہے خالق

مالک تُو زندگی کا، میں ہوں غلام تیرا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

زمانہ جس کو خالق مانتا ہے
سدا وردِ زباں اللہ اکبر
کبھی کوہ و دمن میں کھوجتا ہے
سرورِ قلب و جاں اللہ ہی اللہ
خدا کی قدرتیں ہر سُو عیاں ہیں
خدا کامل مرا، اکمل خدا ہے
کچھ پتھروں کو قیمتی پتھر بنا دیا
مکان ہو کوئی یا لا مکان تیرا ہے
حقیقت میں تو اس دنیا کی جو یہ شان و شوکت ہے
نبی کی نعت پڑھتا ہوں کہ ہے یہ دل کشی میری