اردوئے معلیٰ

Search

ہے خام و خجل خستہ خیالی ، مرے سائیں

ممکن ہے کہاں مدحتِ عالی ، مرے سائیں

 

امکان سے باہر ہی رہی مدح سرائی

تدبیر نے جو طرح بھی ڈالی ، مرے سائیں

 

حاضر ہیں ، بصد عجز ، ترے شہرِ کرم میں

مَیں اور مرا دامنِ خالی ، مرے سائیں

 

بہہ جاؤں کسی روز کسی سیلِ طلب میں

اور دیکھوں ترے روضے کی جالی ، مرے سائیں

 

صد شکر تری نعت کے گُلزار کھلے ہیں

بے برگ تھی اُفکار کی ڈالی ، مرے سائیں

 

بے روک ترے جُود و عنایات کی بارش

بے مثل ترا فیضِ مثالی ، مرے سائیں

 

گو جسم ابھی کوئے مشیت میں پڑا ہے

یہ دل ہے ترے در کا سوالی ، مرے سائیں

 

اِک نعت کی خیرات بصد لطف و عنایت

الطاف و عنایات کے والی ، مرے سائیں

 

جاذب ہے ترا صیغۂ اجلالِ مجلیٰ

دلکش ہے تری طرزِ مقالی ، ، مرے سائیں

 

اب آمدِ تسکینِ دل و جاں کی خبر ہو

دل نے ہے بہت دُھوم مچا لی ، مرے سائیں

 

شاہانِ زمن بھی ترے الطاف کے سائل

مقصودؔ بھی ہے تیرا سوالی ، مرے سائیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ