ہے ربِ کائنات ثنا کار آپ کا

ہے ربِ کائنات ثنا کار آپ کا

کتنا عظیم رتبہ ہے سرکار آپ کا

 

اس پر غم و الم کی تپش کیا اثر کرے؟

جس کو ملا ہو سایۂ دیوار آپ کا

 

جس کو شرابِ دید ہوئی آپ کی نصیب

اک اک غلامِ در ہے وہ سرشار، آپ کا

 

بزمِ جہاں سجائی گئی آپ کے لیے

ہے کائنات آپ کی ، سنسار آپ کا

 

کیا زندگی ہے جو نہ اطاعت میں ہو بسر

وہ دل کہاں ؟ نہیں جو طلبگار آپ کا

 

خوشبو کو چاندنی کو نزاکت کو صبح کو

سکھلائے نرمیاں گلِ کردار آپ کا

 

مرہونِ التفات ہے یہ ساری کائنات

کس پر کرم نہیں مرے سرکار آپ کا

 

دنیا کے تاجور بھی جہاں کے فقیر ہیں

وہ آپ کا ہے در ، وہ ہے دربار آپ کا

 

دو چند ہوگیٔ ہے مری وسعتِ نظر

دیکھا ہے جب سے کوئے ضیابار آپ کا

 

اے مصطفی کے لاڈلے نوابِ ذی وقار

اے کاش ! ایک بار ہو دیدار آپ کا

 

اے والیٔ مدینہ ، دو عالم کے تاجدار

لطف و کرم صدف کو ہے درکار آپ کا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اللہ کے بعد نام ہے میرے حضور کا
ہے دل میں جلوۂ رُخِ تابانِ مصطفےٰ
عیدِ میلاد ہے آج کونین میں ، ہر طرف ہے خوشی عیدِ میلاد کی
آنکھوں میں اشک، دل میں ہو الفت رسول کی
اے کاش! تصور میں مدینے کی گلی ہو
آپ نےاک ہی نظرمیں مجھکوجل تھل کردیا
عدو کے واسطے، ہر ایک امتی کے لیے
نہ دولت نہ جاہ وحشم چاہتا ہوں
اندازِ کرم بھی ہے جدا شانِ عطا بھی
محمد مصطفیٰ سالارِ دیں ہیں

اشتہارات