اردوئے معلیٰ

ہے ربِ کائنات ثنا کار آپ کا

کتنا عظیم رتبہ ہے سرکار آپ کا

 

اس پر غم و الم کی تپش کیا اثر کرے؟

جس کو ملا ہو سایۂ دیوار آپ کا

 

جس کو شرابِ دید ہوئی آپ کی نصیب

اک اک غلامِ در ہے وہ سرشار، آپ کا

 

بزمِ جہاں سجائی گئی آپ کے لیے

ہے کائنات آپ کی ، سنسار آپ کا

 

کیا زندگی ہے جو نہ اطاعت میں ہو بسر

وہ دل کہاں ؟ نہیں جو طلبگار آپ کا

 

خوشبو کو چاندنی کو نزاکت کو صبح کو

سکھلائے نرمیاں گلِ کردار آپ کا

 

مرہونِ التفات ہے یہ ساری کائنات

کس پر کرم نہیں مرے سرکار آپ کا

 

دنیا کے تاجور بھی جہاں کے فقیر ہیں

وہ آپ کا ہے در ، وہ ہے دربار آپ کا

 

دو چند ہوگیٔ ہے مری وسعتِ نظر

دیکھا ہے جب سے کوئے ضیابار آپ کا

 

اے مصطفی کے لاڈلے نوابِ ذی وقار

اے کاش ! ایک بار ہو دیدار آپ کا

 

اے والیٔ مدینہ ، دو عالم کے تاجدار

لطف و کرم صدف کو ہے درکار آپ کا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات