ہے رخشِ سخن مدحتِ آقا ﷺ کے سفر میں

ہے رخشِ سخن مدحتِ آقا ﷺ کے سفر میں

صد شکر کہ ہے روح، بہاروں کے اثر میں

 

طیبہ کا سفر باعثِ شادابیٔ دل تھا

عُشاق کو اب چین مُیَّسر نہیں گھر میں

 

وہ پیروِ سرکارﷺ کبھی ہو نہیں سکتا

جو ڈھونڈتا پھرتا ہے سکوں لعل و گہر میں

 

وہ عشق جو پہنچائے درِ شاہِ ہدیٰ تک

تنویر اسی کی ہو مرے شام و سحر میں

 

اب وقتِ دعا ہے مرے آقاﷺ مرے مولا ﷺ

اُمت کا ہر اِک فرد ہے آغوشِ شرر میں

 

ہو پیشِ نظر مرضیٔ آقا ﷺ ہی مسلسل

مقصد ہو فقط ایک ہر اِک نفع و ضرر میں

 

احسنؔ ہو بسر عمر اس انداز سے اپنی

ہو اُسوۂ آقا ﷺ ہی شب و روز نظر میں

 

حضرت ہلالؔ جعفری کے مصرعے
جو ذرّے ملے ہم کو مدینے کے سفر میں
پر ۱۰؍ اکتوبر ۲۰۰۸ء مطابق ۱۰ ؍ شوال المکرم ۱۴۲۹ھ بروز جمعہ،
بزم حمد و نعت، اسلام آباد کا مشاعرہ ہوا۔ منگل کو حافظ نور احمد صاحب
کی یاد دہانی اور اصرار پر الحمد اللہ ! کراچی میں یہ نعت ہو گئی جو حافظ صاحب
کو لکھوا دی اور انہوں نے ازراہِ عنایت مشاعرے میں سنا دی۔
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

گدا نواز ہے اور نازِ آب و گِل بھی ہے
عرفان نقشِ ذات کا، قُدسی صفات کا
تُوعنایتوں کا مجاز ہے، مری خواہشیں مرے نام کر
حکم خالق کا سُنا ، سر کو جھکا کر آیا
کفر کے قلعے گرانے آ گئے ہیں مصطفیٰﷺ
حضور ! آپ کی فرقت رلائے جاتی ہے
فنا ہو جائے گی دنیا مہ و انجم نہیں ہوں گے
ہے نام دو جہاں میں وجہِ قرار تیرا
بڑھ کے نہ کوئی ان سے محبوب خدا دیکھا
جب کبھی تلخئ ایام سے گھبراتا ہوں