اردوئے معلیٰ

ہے رشکِ ہر اک مقال طرز مقال اُن کا

جدھر اُٹھاؤں نظر اُدھر ہے جمال اُن کا

 

شجر، حجر، بحر و بر سبھی ہیں اُنھی کے تابع

کمالِ اوجِ کمال پر ہے کمال اُن کا

 

بہ اذنِ بارِ الہ مالک ہیں ہر جہت کے

جنوب و مشرق اُنھی کا ، مغرب ، شمال اُن کا

 

مساء و صبح اُن کے در پہ آئیں گدا ہزاروں

بلا تعطل رواں دواں ہے نوال اُن کا

 

میں اُن نکیرو کو پھر سناؤں گا نعت اُن کی

دکھا کے چہرہ کریں گے جب وہ ، سوال اُن کا

 

ہر اک ورق پر کھلیں گے مدحت کے پھول پیہم

سخن کا عنواں اگر ہو حسن و جمال اُن کا

 

وہ ربِ سلم پڑھیں گے بندوں کو دیں گے ڈھارس

پُلِ حزیں پر نہ ہو گا بندہ نڈھال اُن کا

 

اُس ایک شب سب نظامِ عالم رُکے ہوئے تھے

خداے ربِ عُلٰی سے تھا جب وصال اُن کا

 

لواے نعتِ محمدی پر ہے درج ذکرک

بلند ہوتا ہے ذکر ہر ماہ و سال اُن کا

 

اُنھی کے دم سے تمام منظر ہوئے ہیں روشن

ہے مہر و ماہ و نجومِ کُل میں اُجال اُن کا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات