ہے زمیں آسماں میں اللہ ہو

ہے زمیں آسماں میں اللہ ہو

کو بہ کو کل جہاں میں اللہ ہو

 

غیر کو دور کر کے پڑھتا رہ

دل کے خالی مکاں میں اللہ ہو

 

پھر ہی کامل ہے تیرا ایماں جب

ہو حقیقت گماں میں اللہ ہو

 

گونج ہر سو ہے دم بدم اس کی

پورے ارض و سماں میں اللہ ہو

 

گریہءِ ظاہری ہے رب کے لیے

اور اشکِ نہاں میں اللہ ہو

 

ذکرِ رب سے ہیں گل معطر تو

تتلیوں کی زباں میں اللہ ہو

 

گونج قدرت کی چار سو پائی

ہر مکاں لا مکاں میں اللہ ہو

 

کاش مہکے مرا سخن اس سے

جگمگائے بیاں میں اللہ ہو

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

دیار ہجر میں شمعیں جلا رہا ہے وہی
فلک میں حدّ ِ نظر لا اِلہ الہ اللہ
لحد چاہوں مدینے میں خدا، تیری عبادت میں
خدا کا اسم، اسمِ دلکشا ہے
خدا کی یاد سے پہلے وضو اشکوں سے کرتا ہوں
خدا کے فضل سے ہر دم مرا دامن بھرا ہے
جو انسانوں کا ناحق خوں بہائے
خدا واحد، خدا ممتاز و اعظم
رسائی خلق کی رب تک نہ ہو گی
جو دل ذکرِ خدا سے ہر گھڑی معمُور ہوتا ہے