ہے سلطانوں کا ایک سلطان ​

ہے سلطانوں کا ایک سلطان

ہے حنان اللہ ، ہے منان

 

مہیمن ، حفیظ اور نگہبان

عفُو اور رحیم اور رحمٰن

 

زباں سے بھی کہنا ہے آسان

دلوں میں بسانا ہے ایمان

 

سرور و مسرّت کا سامان

دلِ صاحبِ دل کا ارمان

 

نرالا ، اکیلا جہاں بان

ہے خلاقِ حیوان و بے جان

 

عطا کر ہمیں اپنی پہچان

کریں ہم بیاں بس تِری شان

 

تِرا شکْر کرتے ہیں ہرآن

نہیں کرتے نعمت کا کفران

 

ہے اس پر یہ تیرا ہی احسان

اسامہ ہے تیرا ثناخوان

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

یہاں بھی تو وہاں بھی تو زمیں تیری فلک تیرا
میں مسافر ہوں رہنما تُو ہے
تجھ کو روا تکبّر ، تجھ کو ہی کبریائی
نگاہ عشق نے در آگہی کا وا دیکھا
ادب سے سر جھکا، بیٹھے ہوئے ہیں
مرا خدا رؤف ہے، مرا خدا رحیم ہے
بہت ارفع مقامِ زندگانی ہے
حرم کو جانے والو جا کے واں رب کو منالو
خدایا دے مجھے اپنا پتہ، پہچان دے دے
خدا کا ذکر میری زندگی ہے