اردوئے معلیٰ

Search

ہے شانہ کش رقیب جو گیسوئے یار میں

رگ رگ ہے میرے دل کی غضب کے فشار میں

 

آدم بھی آکے روئے یہاں ہجر یار میں

یہ رسم ہے قدیم اس اجڑے دیار میں

 

جاگے تھے شب کو سوئے ہیں دن کو مزار میں

دنیا ہوئی ادھر کی اُدھر ہجرِ یار میں

 

جادو بھرا تھا اس نگہ شرمسار میں

ملتے ہی آنکھ، دل نہ رہا اختیار میں

 

ہم تنکے چن رہے ہیں نشیمن کے واسطے

بجلی چھپی ہے دامنِ ابرِ بہار میں

 

آئے عدم سے گلشنِ ہستی کی سیر کو

دامن الجھ گیا ہے یہاں خارزار میں

 

آنکھیں لگی ہیں در پر نکلتا نہیں ہے دم

ٹھہری ہوئی ہے روح تیرے انتظار میں

 

جوشِ جنوں نے دشت کو گلزار کر دیا

ہے خون میرے پاؤں کا ہر نوکِ خار میں

 

گیسو کی یاد ہے ، کبھی رخ کا خیال ہے

کٹتی ہے عمر اب اسی لیل و نہار میں

 

منبر میں جاکے دیکھیے واعظ کا حالِ زار

پرہیز مے زباں پر ہے ، آنکھیں خمار میں

 

سب زخم سر ہرے ہیں قبا ہے لہو میں تر

لایا ہے رنگ جوشِ جنوں پھر بہار میں

 

قاتل کو میرے سمجھے تھے دشمن کوئی مرا

نکلا تلاش سے وہ مرے دوستدار میں

 

عشقِ بتاں نے کردیا میرا تباہ حال

کس کو ہے دخل مصلحتِ کردگار میں

 

یاں جوشِ گریہ اور وہاں حکم ضبط ہے

پڑ جاتی ہے گرہ مرے اشکوں کے تار میں

 

گردش پہ اپنی ، شمسؔ ! ہمیں صبر آگیا

کس کو ملا سکوں اس اجڑے دیار میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ