ہے عالمِ ہست و بود تیرا

ہے عالمِ ہست و بود تیرا

سدا سے مولا وجود تیرا

 

منزہ و لاشریک ہے تو

فقط ہے حقِ سجود تیرا

 

تو غیب ہے غیب داں بھی تو ہے

ہے ذرہ ذرہ شہود تیرا

 

ہے کن فکاں تیری شان یا رب

نظام بست و کشود تیرا

 

ثنا ہے آبِ رواں کے لب پر

ہے پتہ پتہ حمود تیرا

 

ہے محوِ تقدیس ہر تنفس

دل و نظر میں ورود تیرا

 

فنا ہے تقدیرِ خلقتِ کل

رہے گا نام و نمود تیرا

 

بنائے آفاق و بزم عالم

حبیب ، ربِ ودود تیرا

 

لویں ترے نام سے ہیں روشن

چراغ تیرے ہیں دود تیرا

 

پہنچ رہے ہیں نبی کو پیہم

سلام تیرے درود تیرا

 

صدف کو توفیقِ حمد بخشی

یہ لطف تیرا یہ جود تیرا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

خدا نے نعمتیں بخشی ہیں کیا کیا، خدا نے برکتیں بخشی ہیں کیا کیا
خدا کی حمد میں رطب اللساں ہیں
خدا توفیق دے مجھ کو میں حمد و ثناء لکھوں
عجب لُطفِ خدا کا مرحلہ ہے
خدا رکھے مجھے اپنی اماں میں
وہ دریائے رواں لطف و کرم کا
خدایا خلق کو امن و سکوں دے
قادرِ مطلق
ذرہ ذرہ حمد تری ہی کرتا ہے
اے گل باغ شاہ دیں نواب

اشتہارات