’’ہے عام کرم اُن کا اپنے ہوں کہ ہوں اعدا‘‘

 

’’ہے عام کرم اُن کا اپنے ہوں کہ ہوں اعدا‘‘

منکر کو بھی دیتے ہیں رحمت سے دُعا آقا

ہے کام شہِ دیں کا سب کو ہی عطا کرنا

’’آتا ہی نہیں گویا سرکار کو ’لا‘ کرنا‘‘

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

حالِ دل پر جو عنایت کی نظر ہو جائے
خاطی ہوں سیاہ رُو ہوں خطاکار ہوں میں
نعت کا فیض عام کرتے ہیں
آپؐ جیسا حسیں نہیں کوئی
آپؐ ہی خیر البشرؐ ہیں آپؐ ہی نُورمبیں
خدا کی کبریائی ہے جہاں تک
میں اِک بھُوکا تھا پیاسا تھا مُسافر
کیا مجھ سے واعظ نے ذکرِ مدینہ
’’چاند شق ہو پیڑ بولیں جانور سجدہ کریں ‘‘
’’ان کو دیکھا تو گیا بھول میں غم کی صورت‘‘

اشتہارات