ہے عرش پہ قوسین کی جا ، جائے محمد

ہے عرش پہ قوسین کی جا ، جائے محمد

رشکِ یدِ بیضا ہے کفِ پائے محمد

 

عیسیٰ سے ہے بڑھ کر لبِ گویائے محمد

یوسفؑ سے ہے بڑھ کر رُخِ زیبائے محمد

 

والشّمس تھے رخسار تو واللیل تھیں زلفیں

اِک نور کا سورہ تھا سراپائے محمد

 

اندھیر ہوا کفر کا سب دور جہاں سے

روشن ہوا عالم جو یہاں آئے محمد

 

عصیاں سے بری ہو کے قیامت میں اُٹھے گا

بے شک ہے بہشتی جو ہے شیدائے محمد

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ہر لفظ کہہ رہا ہے مقدّس کتاب کا
وہ کون سی منزل تھی کل رات جہاں میں تھا
دِوانو! جشن مناؤنبی کی آمد ہے
محمد مصطفیٰؐ کا میرے لب پر جب بھی نام آیا​
جو نگاہِ شہِ امم ہو جائے
مدینہ چھوٹتا ہے جب تو کیسا درد ہوتا ہے
عطا کا مال و زر دامن میں بھرکر ناز کرتا ہے
جمالِ دو عالم تری ذاتِ عالی​
گلزار مدینہ سے جسے پیار نہیں ہے
آنکھ کو منظر بنا اور خواب کو تعبیر کر