ہے مِرے رب کا ہمیشہ سے کرم خوش بخت ہوں

ہے مِرے رب کا ہمیشہ سے کرم خوش بخت ہوں

لَوحِ دِل پر نامِ احمد ﷺ ہے رقم خوش بخت ہوں

 

نعت کہنے کے لیے جب بھی اُٹھاتا ہوں قلم

جُھوم کر کہتا ہے مجھ سے یہ قلم خوش بخت ہوں

 

داستانِ ہِجر کیوں کر میں سُنائوں آپ کو

جب کہ ہوں قُربت میں اُن کی ہر قدم خوش بخت ہوں

 

محفلِ ذِکرِ نبی میں، نور کی برسات میں

میں بھی ہوں محوِ ثنا رب کی قسم خوش بخت ہوں

 

اُن کی رحمت کی نظر مجھ پر پڑے گی جس گھڑی

ختم ہوں گے میرے بھی رنج و الم خوش بخت ہوں

 

کس لیے میں خوف کھائوں روزِ محشر سے کہ جب

اُن کے ہاتھوں میں مِرا بھی ہے بھرم خوش بخت ہوں

 

پیارے آقا کی محبت اصلِ ایماں، کُلِ دیں

جس کو حاصل ہو گئی وہ محترم خوش بخت ہوں

 

خواب میں اُن کا مدینہ جب سے آیا ہے نظر

ضوفشاں سینے میں اُن کا ہے حرم خوش بخت ہوں

 

بس اُنہی کی یاد سے ہے شاد یہ قلبِ حزیں

اور ہیں خوشیاں میسّر دَم بہ دَم خوش بخت ہوں

 

میں گدائے سرورِ کونین ہوں رب کی قسم!

ہے رضاؔ اعزاز میرا کیا یہ کم خوش بخت ہوں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

عطا ہوتے ہیں بحر و بر گدا دل سے اگر مانگے
جو ان کے عشق میں آئینہ فام ہو جائے
شاعری کے ماتھے پر ان کی بات مہکے گی
مدینہ دیکھ کر دل کو بڑی تسکین ہووے ہے
پڑا ہوں سرِ سنگِ در مورے آقا
آقاﷺ کی محبت ہی مرے پیشِ نظر ہو
جب بھی پہنچا ہوں آقاؐ کے دربار تک
روشن ہیں دو جہاں میں بدرالدجی کے ہاتھ
قمر کو شقِ قمر کا حسین داغ ملا
میرے دل میں ہے یاد محمد ﷺ میرے ہونٹوں پہ ذکر مدینہ