ہے میری زیست کا حاصل محبت آپ سے آقا

 

ہے میری زیست کا حاصل محبت آپ سے آقا

مرے حرف و سخن میں ہے حلاوت آپ سے آقا

 

یہ جو دستِ عطا سے پنج آبی نہریں جاری ہیں

ورائے عقل پائی ہے عنایت آپ سے آقا

 

سبھی عشاق ہیں تیار اپنی جان دینے کو

ہے ساری عشق و مستی کی حرارت آپ سے آقا

 

ظہورِ نور سے ہیں آپ کے، دونوں جہاں روشن

ہے مہر و ماہ و انجم کی بھی ہے طلعت آپ سے آقا

 

بروزِ حشر کیسے ڈگمگائیں گے قدم میرے

وہاں خود آپ ہونگے ہے بشارت آپ سے آقا

 

قضاآئے تو میرے سامنے ہو منظرِؔ طیبہ

مجھے درکار ہے اتنی عنایت آپ سے آقا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ