ہے نام دو جہاں میں وجہِ قرار تیرا

ہے نام دو جہاں میں وجہِ قرار تیرا

آقا نفس نفس میں مہکا ہے پیار تیرا

 

تو نے جہالتوں سے انسان کو نکالا

انسانیت پہ احساں ہے بے شمار تیرا

 

میری حیات جس کی رعنائیوں سے مہکی

وہ ہے سرور تیرا وہ ہے قرار تیرا

 

ظلم و ستم کے ہر سو چھانے لگے ہیں بادل

پھر دیکھتا ہے رستہ ہر کارزار تیرا

 

کشمیر بھی تمہاری چشم کرم کا طالب

اقصیٰ کی آنکھ میں بھی ہے انتظار تیرا

 

خالق خدا ہے، مالک دونوں کا تو ہے آقا

کل کائنات تیری، پروردگار تیرا

 

وہ آس زندگی کی انمول ساعتیں ہیں

جن ساعتوں میں نام نامی شمار تیرا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

محمد مصطفیٰ یعنی خدا کی شان کے صدقے
زندگی شاد کیا کرتی ہے
نعت لکھنی ہے مگر نعت کی تہذیب کے ساتھ
جس کی دربارِ محمد میں رسائی ہوگی
اعلیٰ واطہر و اکمل وکامل صلی اللہ علیٰ محمد
ہونٹوں پہ تو رہتا ہے سدا نامِ محمد
زباں پر ہے‘ دلوں میں ہے‘ مکاں سے لامکاں تک ہے
کُھلتے رستے جنگل صحرا جو ہے سب کچھ ان کا ہے
مَیں مدینے جو پہنچی تو دل میں مرے روشنی ہو گئی
حقیقتِ مصطفی کہوں کیا کہ اضطراب اضطراب میں ہے