ہے چُبھن مستقل قرار کے ساتھ

ہے چُبھن مستقل قرار کے ساتھ

پھول ڈالی پہ جیسے خار کے ساتھ

 

صبح کا انتظار ہے لیکن

بے یقینی ہے اعتبار کے ساتھ

 

خواہشِ باغباں ہے یہ شاید

زرد رُت بھی رہے بہار کے ساتھ

 

میرے گھر میں بھی کہکشاں کی طرح

ربط قائم ہے انتشار کے ساتھ

 

پیڑ نعمت بدست و سرخم ہیں

ہے تفاخر بھی انکسار کے ساتھ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جب خزاں آئے تو پتّے نہ ثَمَر بچتا ھے
لرزتے جسم کا بھونچال دیکھنے کے لیے
جہانِ فن میں دُور دُور تک برائے نام ہو
تمہارے گال کو چھو کر بھی کھارا کس لئے ہے؟
گرچہ کم کم تری تصویر نظر آتی ہے
درد کی اپنی ریت وچھوڑا
یار ! تُو میرے درد کو میری سخن وری نہ جان
تمہارے درد سے اپنے ملال سے خائف
حزنیہ ہے کہ طربیہ، جو ہے
تُو اور ترا یہ نام یہاں خاک بھی نہیں

اشتہارات