ہے گذارش میری ذاتِ کبریا کے سامنے

 

ہے گذارش میری ذاتِ کبریا کے سامنے

میں ملوں خود کو درِ صلّیِ علیٰ کے سامنے

 

میں جیوں تو سانس میری اُس نگر کی ہو رہین

میں مروں تو روضۂ خیرالوریٰ کے سامنے

 

جس نے ظلمت کو اُجالوں کی بشارت بخش دی

اِک دیا روشن رہا سرکش ہوا کے سامنے

 

جس کو تیرا دامنِ رحمت میسر آگیا

بے خطر آیا وہ ہر برق و بلا کے سامنے

 

میں پلک جھپکوں تو جا پہنچوں تری ؐسرکار میں

عرض رکھ دی ہے محمد مصطفیٰؐ کے سامنے

 

حشر کا مجھ کو نہیں ہے خوف کوئی مرتضیٰؔ

میں اُٹھوں گا شافعِ روزِ جزاؐ کے سامنے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کیا ہے بہتر ہمیں سرکارؐ کی نعمت کے سوا
خزاں سے کوئی طلب نہیں ہے بہار لےکر میں کیا کروں گا
ہو مبارک میرِ کُل پیدا ہوئے
جہاں میں مرتبہ جس نے بهی چاہا
ظُلم کی دُنیا مِٹانے پیارے آقا آ گئے
بابِ مدحت پہ مری ایسے پذیرائی ہو
جس دل میں بس گئی ہے محبت رسول کی
شیرازہ بندِ دفترِ امکاں ہے شانِ حق
ماورائے عقلِ انساں شان و عظمت آپ کی
بارگۂ جمال میں خواب و خیال منفعل