اردوئے معلیٰ

ہے ہمیں ہجر کی بھٹی میں پگھلنا سب کچھ

کیمیا ہوں کہ مسِ خام ، غرض یہ بھی نہیں ہے

 

کوئی باقائدہ آغاز نہیں تھا کل بھی

کوئی باضابطہ انجام ، غرض یہ بھی نہیں ہے

 

کیوں چھپاتا ہے عبث اپنے بدن کے غنچے

تجھ سے ائے پیکرِ گلفام ، غرض یہ بھی نہیں ہے

 

ہم سے رکتی ہی نہیں سینہِ بِسمل میں صدا

کوئی آئے گا سرِ بام ، غرض یہ بھی نہیں ہے

 

فطرتاً کارِ محبت پہ ہیں پابند ، کہ ہم

کامراں ہوں کہ ہوں ناکام ، غرض یہ بھی نہیں ہے

 

خود کلامی ہی سہی شعر ، چلو ، دیدہ ورو

وہم ٹھہرے ہیں کہ الہام ، غرض یہ بھی نہیں ہے

 

ہم وہ درویشِ سخن ہے کہ سرِ بزمِ جہاں

داد پاتے ہیں کہ دشنام ، غرض یہ بھی نہیں ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات