’’ہے یہ اُمید رضاؔ کو تری رحمت سے شہا‘‘

 

’’ ہے یہ اُمید رضاؔ کو تری رحمت سے شہا‘‘

ہاں ! تری چشمِ عنایت و شفاعت سے شہا

نہ ہو حیران سرِ حشر وہ شیدا ہو کر

’’ کیوں ہو زندانیِ دوزخ ترا بندا ہو کر ‘‘

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

وہ اک یتیم، بے کس وتنہا کہیں جسے
نبیؐ کی شان ہے دنیا کا منظر
کہاں میں اور کہاں اُنؐ کی ثنائیں
جب طبیعت اُداس ہوتی ہے
گریزاں مُجھ سے دردِ لادوا ہے
مرے دل میں جمالِ یار دیکھو
سکون و امن کے حالات دے دیں
نور سے اپنے خدا نے آپؐ کو پیدا کیا
’’برستا نہیں دیکھ کر ابرِ رحمت‘‘
’’کُن کا حاکم کر دیا اللہ نے سرکار کو‘‘

اشتہارات