ہے یہ دیوان اُس کی مدحت میں

ہے یہ دیوان اُس کی مدحت میں

جس کی ہر بات ہے خدا کو قبول

 

جس کے قبضہ میں دو جہان کا ملک

جس کے بندوں میں تاجدار شمول

 

جس پہ قرباں جناں جناں کے چمن

جس پہ پیارا خدا خدا کے رسول

 

جس کے صدقے میں اہل ایماں پر

ہر گھڑی رحمتِ خدا کا نزول

 

جس کی سرکار قاضیِ حا جات

جس کا دربار معطیِ مامول

 

یہ ضیائیں اُسی کے دم کی ہیں

یہ سخائیں اُسی کی ہیں معمول

 

دن کو ملتا ہے روشنی کا چراغ

شب کو کھلتا ہے چاندنی کا پھول

 

اُس کے دَر سے ملے گدا کو بھیک

اُس کے گھر سے ملے دُعا کو قبول

 

اے حسنؔ کیا حسن ہے مصرعِ سال

’باغ اسلام کے کھلے کیا پھول‘​

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ