ہے یہ میدانِ ثنا گر نہ پڑے منہ کے بل

 

ہے یہ میدانِ ثنا گر نہ پڑے منہ کے بل

فرسِ طبعِ رواں دیکھ سنبھل دیکھ سنبھل

 

ان کے اک ذکر کا اللہ رے یہ ردِ عمل

دل ہے مخمور مرا مست ہے مینائے غزل

 

ہے شہنشاہِ زمن ہادی اقوام و ملل

جاں سپارِ رہِ حق غازی میدانِ عمل

 

آخری ان کی رسالت ہے، یہ ہے بات اٹل

جو مسلمان ہے اس کو تو نہیں لیت و لعل

 

نعرۂ حق سے ترے گونج اٹھے دشت و جبل

منہ کے بل ٹوٹ گرے لات و منات اور ہبل

 

پرِ پروازِ تخیل بھی جہاں پر کہ ہے شل

شبِ اسرا ہے وہاں ذاتِ نبی افضل

 

کیجئے ذکر جو ان کا تو خدا ہو راضی

لیجئے نام جو ان کا تو کھلے دل کا کنول

 

اللہ اللہ یہ کیفیتِ شیریں سخنی

ان کی با توں میں گھلی جیسے ہو تاثیرِ عسل

 

مہ و خورشید سے نسبت نہیں ہرگز شایاں

یوں سمجھ لیجئے ادنیٰ سی ہے اک ضربِ مثل

 

بھیجتے ان پہ ہیں واللہ ملائک بھی درود

شان ان کی یہ ہے در بار گہ عزّ و جل

 

ان کی ہی شانِ عنایت کے طفیل آج نظرؔ

چولی دامن کے ہیں ساتھی مرے ایمان و عمل

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جن کا ہے طیبہ مقام، اُن پہ درود اور سَلام
اشعار میں مرے مئے باطل کی بو نہیں
ہرکسی کو ہو بقدر ظرف عرفانِ رسول
مطلعِ رخ پہ تری زلفِ دوتا ہو جانا
چلو دیار نبی کی جانب درود لب پر سجا سجا کر
تو ہے خوش اور سوگوار ہوں میں
یہاں پر نہیں ہے مرا دل وہاں ہے
بس لا تعلقی کی فضا درمیاں نہ ہو
تا حشر سرخرو ہیں کسی کی نظر سے ہم
گہ گُل نم ہے گہ شرارا بھی

اشتہارات