اردوئے معلیٰ

یاایُّھَا الرّسولُ و یا ایّھُا النّبی

مدحت سرا ہے آپ کا ادنیٰ یہ امتی

 

اپنی جگہ پہ خوب تھا گو حسنِ یوسفی

لیکن ترے جمال کی اللہ رے طرفگی

 

تو مصطفیٰ ہے تیری نبوت ہے آخری

مختص ہے تجھ سے اب تو زمانہ کی رہبری

 

مبعوث اپنے دور میں ہوتے رہے نبی

تجھ سے نہیں کسی کو پہ دعوائے ہمسری

 

چھائی ہوئی تھی دہر میں ہر سمت تیرگی

تیرے ہی دم قدم سے ہے پھیلی یہ روشنی

 

باقی نہیں رہی کوئی واللہ تشنگی

بخشا ہے سب کو آپ نے وہ جامِ آگہی

 

وردِ ملائکہ سحر و شام ہے یہی

ربِ غفور صلِّ و سلّم علی النّبی

 

محشر میں سب کو فکر پڑی اپنی ذات کی

لیکن لبِ حضور پہ یا ربِ امتی

 

فرشِ زمیں پہ بسترِ راحت ہے آپ کا

سرکارِ دوجہاں کی یہ واللہ رے سادگی

 

رشتہ بتا دیا ہمیں معبود و عبد میں

اس نے سکھا دیے ہمیں آدابِ بندگی

 

مصحف ترا خزینۂ حکمت ہے سر بسر

گم گشتگانِ راہ کو مینارِ روشنی

 

عزِّ سخن ثنا سے ہے سب ورنہ اے نظرؔ

تو کیا ہے اور کیا ہے یہ تیری سخن وری

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات