اردوئے معلیٰ

Search

یادوں میں مرے جن کے ہیں افکار شب و روز

کھلتے ہیں اسی ذات کے اسرار شب و روز

 

دل میں مرے اب ان کے سوا کوئی نہیں ہے

یوں عشقِ محمد میں ہوں سرشار شب و روز

 

اولاد بھی میری ہو ثنا خوان انہی کی

نسلوں میں رہیں آپ کے انوار شب و روز

 

گر میری جبیں ان کی ثنا سے ہے منوّر

کرتے ہیں کرم مجھ پہ بھی سرکار شب وروز

 

زاہدؔ ! تجھے مطلوب ہے گر ان کی شفاعت

کر نعتِ محمد میں یہ اظہار شب و روز

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ