اردوئے معلیٰ

Search

 

یادِ سرکار کی لے کے ہم روشنی یاں سے سُوئے مدینہ اگر جائیں گے

دل کی دنیا میں ہوگی عیاں روشنی اپنے بگڑے مقدر سنور جائیں گے

 

پڑھ کے میں سورہ نور کرنے لگی ذکرِ روئے منور سرِ شام جب

ظلمتیں چیخ اٹھیں پیٹ کر اپنا سر، ہائے اب ہم کہاں اور کدھر جائیں گے

 

اِک طرف ماہ وانجم کی جلوہ گری، اک طرف طلعتِ روئے نورِ خدا

چاند کے حسنِ ظاہر کے شیداہو، جاؤ جاؤ ادھر ہم اِدھر جائیں گے

 

ذرے ذرے سے ہوگی عیاں روشنی، مدتوں تک مہکتی رہے گے گلی

یا حبیبِ خدا نورِ ربُ العلا، آپ جس راستے سے گزر جائیں گے

 

روزِ محشر پریشانیوں میں سبھی مارے مارے پھریں گے اِدھر سے اُدھر

پا ہی جائیں گے تسکینِ قلب وجگر جس گھڑی پیشِ خیرالبشر جائیں گے

 

ہم نے مانا کہ حاصل نہیں ہیں ہمیں سم وزر دولتِ چند روزہ مگر

اُن کے دربار میں ہم لٹاتے ہوئے راہ بھر آنسوؤں کے گُہر جائیں گے

 

یادری کی مقدر نے مخفیاگر، سوئے طیبہ ہو اگر ہمارا سفر

روضہ پاک پر دیں گے ہم حاضری چھوڑ کر پھر نہ ہم اُن کا دَر جائیں گے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ