اردوئے معلیٰ

یادِ نبی سے میرے تصور میں جزر و مد

نغمہ طرازِ نعت ہوں یا رب میں المدد

 

فرماں روائے کون و مکاں سے ہے مستند

شاہی حضورِ پاک کی ممتد ہے تا ابد

 

دانشوروں کو بھی نہیں یارائے ردّ و کد

قولِ نبی بحکمِ خدا آخری سند

 

ق

 

مدفون جس زمیں میں ہے پاکیزہ وہ جسد

جس جا ہے نور پاشِ پُر انوار وہ لحد

 

اس شہر کا نصیب مجھے آب و دانہ ہو

اے ذاتِ المجیب وَ اے ذاتِ الصمد

 

سر تا قدم وہ پیکرِ حسن و جمال ہے

قامت نظر نواز ہے جاذب میانہ قد

 

آنکھیں خمارِ بادۂ وحدت لئے ہوئے

مژگان مثلِ تیر ہیں دلکش ہیں خال و خد

 

تمثالِ آئینہ ہے دلِ سید البشر

ہر آئینہ کہ صاف ہے از کینہ و حسد

 

رفعت نظر کو اور جِلا دل کو کی عطا

تحقیق و اجتہاد کا میداں پئے خرد

 

قولِ خدا ہے یہ بہ زبانِ شہِ ہدیٰ

دیکھے ہر اک کو چاہئے ‘ما قدَّمَت لِغَد’

 

ساتھی وہ غارِ ثور کا ہے افضل البشر

سب پارسا ہیں ویسے تو یارانِ معتمد

 

نازل خدا کی اس پہ ہوں دس لاکھ رحمتیں

بھیجے درود جو بھی نبی پر ہزار صد

 

اسوہ اسی کا قابلِ تقلید ہے نظرؔ

معیار ہے وہی پئے اعمالِ نیک و بد

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات