اردو معلی copy
(ہمارا نصب العین ، ادب اثاثہ کا تحفظ)

یاد آئی تو در ناب امڈ آئے ہیں

 

یاد آئی تو در ناب امڈ آئے ہیں

حسرت دید کے سیلاب امڈ آئے ہیں

 

بھیگی بھیگی ہے فضا آج جہان دل کی

آنکھ پر کرمک شب تاب امڈ آئے ہیں

 

کون سا ابر کرم غار حرا پر برسا

ہر طرف نور کے سیلاب امڈ آئے ہیں

 

شافع روز جزا ، رحمت کل، خیر کثیر

کس قدر خیر کے اسباب امڈ آئے ہیں

 

خواب میں دھندلی سی صورت جو نظر آئی ہے

چہرہ خواب پہ سو خواب امڈ آئے ہیں

 

جس جگہ خون تھا، شعلے تھے، خمر تھی ، بت تھے

اس جگہ منبر و محراب امڈ آئے ہیں

 

زندگی کرنے کے آداب کہاں تھے پہلے

آپ آئے ہیں تو آداب امڈ آئے ہیں

 

ہر شفق پر ترے خورشید نے کرنیں ڈالیں

ہر افق پر ترے مہتاب امڈ آئے ہیں

 

خاک پر جنت فردوس اتر آئی ہے

دشت میں گلشن شاداب امڈ آئے ہیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

رتن خاص دریائے لولاک کا​
یارب مرے جیون کو مدینے کی ہوا دے
کیا خوب مدینہ کے گلستاں میں پھرے تھا
سر سے پا تک ہر اَدا ہے لاجواب
کیا کریں محفل دلدار کو کیوں کر دیکھیں
ملے عظمت اسی کو بس جہاں میں
نبیؐ کا پیار مانگوں میں خُدا سے
یا خُدا! عشقِ محمدؐ کا عطا اِک جام کر
مانگنا اُنؐ سے شمس و قمر مانگنا
خدا بھی آپؐ سے الفت، محبت ہم بھی کرتے ہیں