یاد رکھ ، خُود کو مِٹائے گا تو چھا جائے گا

یاد رکھ ، خُود کو مِٹائے گا تو چھا جائے گا

عشق میں عجز مِلائے گا تو چھا جائے گا

 

اچھی آنکھوں کے پُجاری ھیں مرے شہر کے لوگ

تُو مرے شہر میں آئے گا تو چھا جائے گا

 

دیدہٗ خُشک میں بے کار سلگتا ھوا غم

رُوح میں ڈیرے لگائے گا تو چھا جائے گا

 

ھم قیامت بھی اُٹھائیں گے تو ھوگا نہیں کچھ

تُو فقط آنکھ اُٹھائے گا تو چھا جائے گا

 

پھُول تو پھُول ھیں ، وہ شخص اگر کانٹے بھی

اپنے بالوں میں سجائے گا تو چھا جائے گا

 

یُوں تو ھر رنگ ھی سجتا ھے برابر تجھ پر

سُرخ پوشاک میں آئے گا تو چھا جائے گا

 

پنکھڑی ھونٹ ، مدھر لہجہ اور آواز اُداس

یار ! تُو شعر سُنائے گا تو چھا جائے گا

 

جس مصور کی نہیں بِکتی کوئی بھی تصویر

تیری تصویر بنائے گا تو چھا جائے گا

 

جبر والوں کی حکومت ھے فقط چند ہی روز

صبر میدان میں آئے گا تو چھا جائے گا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اتنا ہی میرا کام تھا ، بستی سے جاؤں میں
لب پہ شکوہ بھی نہیں، آنکھ میں آنسو بھی نہیں
مفلوج کئے پہلے مرے ہاتھ مکمل
ممتاز شاعر شہزادؔ احمد کا یومِ وفات
"اے خاصۂ خاصانِ رسُل ! وقتِ دُعا ھے"
درخت کاٹنے والو ! تُمہیں خبر ھی نہیں
ایک انگڑائی مرے سامنے لہرانے لگی
عام سا اِک دن
گلی سے ہجر گُذرا ہے یقیناََ
میں مر مٹا تو وہ سمجھا یہ انتہا تھی مری