اردوئے معلیٰ

یاد طیبہ کا نگر آنے لگا

یاد طیبہ کا نگر آنے لگا

حاضری کا شوق تڑپانے لگا

 

بادشاہوں کو بھی شرمانے لگا

بھیک جب سے آپ کی پانے لگا

 

آپ کا پُرنور چہرہ دیکھ کر

چودھویں کا چاند شرمانے لگا

 

ابرِ رحمت، سن کے نامِ مصطفی

بارشِ انوار برسانے لگا

 

تھامنے ان کا کرم آیا مجھے

جب غمِ دوراں سے گھبرانے لگا

 

پیار آصف مجھ سے سب کرنے لگے

گیت ان کے جب سے میں گانے لگا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ