یارب ہے بخش دینا بندے کو کام تیرا

یارب ہے بخش دینا بندے کو کام تیرا

محروم رہ نہ جائے کل یہ غلام تیرا

 

جب تک ہے دل بغل میں ہر دم ہو یاد تیری

جب تک زباں ہے منہ میں ‌جاری ہو نام تیرا

 

ایمان کی کہیں گے ایمان ہے ہمارا

احمد صلی اللہ علیہ وسلم رسول تیرا مصحف کلام تیرا

 

ہے تو ہی دینے والا پستی سے دے بلندی

اسفل مقام میرا اعلٰی مقام تیرا

 

محروم کیوں‌ رہوں میں جی بھر کے کیوں نہ لوں میں

دیتا ہے رزق سب کو ہے فیض عام تیرا

 

یہ “داغ“ بھی نہ ہو گا تیرے سوا کسی کا

کونین میں ‌ہے جو کچھ وہ ہے تمام تیرا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

یہاں بھی تو وہاں بھی تو زمیں تیری فلک تیرا
عشق کو حسن کے انداز سکھا لوں تو چلوں
اے الٰہُ العالمیں ! تجھ سا کوئی بھی نہیں
نگاہ عشق نے در آگہی کا وا دیکھا
ادب سے سر جھکا، بیٹھے ہوئے ہیں
مرا خدا رؤف ہے، مرا خدا رحیم ہے
بہت ارفع مقامِ زندگانی ہے
حرم کو جانے والو جا کے واں رب کو منالو
خدایا دے مجھے اپنا پتہ، پہچان دے دے
خدا کا ذکر میری زندگی ہے

اشتہارات