یارَبّ میں صبح و شام حرم دیکھتا رہوں

(مناجات : ۲ مئی ۱۹۹۴ء کو بیت اللہ میں لکھی گئی)

 

یارَبّ میں صبح و شام حرم دیکھتا رہوں

ہر ہر نفس، میں تیرا کرم دیکھتا رہوں

 

ایمان کے اُفق پہ نظر آئے روشنی

مٹتے ہوئے جہاں سے ظََلَمْ دیکھتا رہوں

 

ایسی نگاہ مجھ کو عطا کر کہ تا حیات

پوشیدہ ہو جو قطرے میں یم، دیکھتا رہوں

 

اوجھل ہو جب نظر سے صراطِ عمل تو میں

تیرے نبیؐ کے نقشِ قدم دیکھتا رہوں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مری جبیں ہے فقط تیرے آستاں کے لیے
اُسوۂ سرکارِ دو عالم میں ڈھل جاؤں تمام
کرے عرض آصفِ بے نوا، کہ ہو خیر پر مرا خاتمہ
نقشِ پا اُن کا لا کلام تمام
اُسوۂ ختم رُسُل جب نظر انداز ہوا
حسین ابن علیؓ صبر و رِضا کا آئینہ ہیں
علاجِ قلبِ حزیں کہیں بھی نہیں ہے احسن’! سوائے طیبہ
کاش میں بھی زندگی میں صبحِ بہجت دیکھ لوں!
فضائے طیبہ میں دن جو گزرے وہ آج پھر یاد آئے دل کو
میرے مالک یہ تجھ سے دعا ہے

اشتہارات