اردوئے معلیٰ

Search

یار بجا یار نہیں رہ گئے

راستے ہموار نہیں رہ گئے

 

خیر پرندے تو پلٹ آئیں گے

لوگ تو اس پار نہیں رہ گئے

 

تم جہاں تصویر بنے بیٹھے ہو

ہم وہاں دیوار نہیں رہ گئے

 

یہ تو ازالہ ہے نئے زخم کا

اور جو آزار نہیں رہ گئے

 

وقت سے پہلے ہوئے تیار ہم

وقت پہ تیار نہیں رہ گئے

 

شکر ہے اچھا ہے مرا حافظہ

ورنہ اب آثار نہیں رہ گئے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ