اردوئے معلیٰ

Search

یار سب غمگسار کب ہوئے ہیں

سب شجر سایہ دار کب ہوئے ہیں

 

ہم ازل کے ہیں بے قرار مگر

اس قدر بے قرار کب ہوئے ہیں

 

آپ رہتے ہیں کہکشاؤں میں

آپ میں ہم شمار کب ہوئے ہیں

 

کیسے حالات کا بہانہ کریں

یہ بھلا سازگار کب ہوئے ہیں

 

کب کھلے ہیں خرد پہ آئینے

راز سب آشکار کب ہوئے ہیں

 

اب جنہیں یاد کر رہا ہوں میں

وہ مرے سوگوار کب ہوئے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ