اردوئے معلیٰ

Search

یاس کس طرح نمو جُو ہو دلِ زار کے پاس

مژدۂ عفوِ نہایت ہے خطا کار کے پاس

 

حیطۂ جاں میں رواں ہے یمِ تمدیح کی رَو

تشنگی پھر بھی کہیں رہتی ہے اظہار کے پاس

 

لَوٹ آیا ہے مدینے سے تنِ جبر نصیب

دل بصد عجز وہیں ہے درِ غمخوار کے پاس

 

موجۂ بادِ شفاعت مرے امکان میں اُترا

فردِ عصیاں ہے مری ، نگہ دار کے پاس

 

بامِ تعبیر پہ رخشاں ہے ترے خواب کا لمس

قدِ احساس سے بالا ، حدِ آثار کے پاس

 

وہ جو چاہیں تو شَرف یابِ زیارت کر دیں

بس تمنا کی ریاضت ہے طلب گار کے پاس

 

دستِ اجبارِ اجل پردۂ رخصت نہ گرا

ساعتِ دید ہے باقی ابھی بیمار کے پاس

 

خامۂ عجز کو حاصل ہے ترے اسم کا ناز

مدحتِ نَو کا تفاخُر ہے نگوں سار کے پاس

 

بے اماں فردِ غلط کار ہے رنجُورِ الم

اور مداوا ہے اُسی دستِ شفا بار کے پاس

 

بخت یاور ہو تو رہ جاؤں مدینے میں کہیں

صورتِ گرد ، پریشاں در و دیوار کے پاس

 

مجھ پہ ہو جائے جو مقصودؔ عنایت کی نظر

جی اُٹھے ساعتِ بے دَم شبِ دیدار کے پاس

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ