یامصطفی! خدارا اذنِ حضوری دیجے

یامصطفی! خدارا اذنِ حضوری دیجے

رحمت کا ہو اشارہ اذنِ حضوری دیجے

 

میری بھی ہے تمنا میں بھی مدینہ دیکھوں

ہو جائے کوئی چارہ اذنِ حضوری دیجے

 

اللہ کی قسم اک میرا تو اس جہاں میں

ہیں آپ ہی سہارا اذنِ حضوری دیجے

 

طیبہ کو دیکھنے کی ہر دل میں ہے تمنا

ہر لب پہ ہے یہ نعرہ اذنِ حضوری دیجے

 

گرداب میں سفینہ ہچکولے کھا رہا ہے

دیجے اسے کنارہ اذنِ حضوری دیجے

 

بی فاطمہ کے صدقے ، مولا علی کے صدقے

رکھیئے بھرم خدارا اذنِ حضوری دیجے

 

اُس سے سدا رضاؔ کو آقا جی! دور رکھیئے

جس میں ہو کچھ خسارہ اذنِ حضوری دیجے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اس پر، کہ نام آتا ہے بعد اللہ کے جس کا
ہر آنکھ میں پیدا ہے چمک اور طرح کی
کیا پیار بھری ہے ذات ان کی جو دل کو جِلانے والے ہیں
نوری محفل پہ چادر تنی نور کی ، نور پھیلا ہوا آج کی رات ہے
کافِ کن کا نقطۂ آغاز بھی تا ابد باقی تری آواز بھی
حامل جلوہءازل، پیکر نور ذات تو
سمایا ہے نگاہوں میں رُخِ انور پیمبر کا
جس کی دربارِ محمد میں رسائی ہوگی
سکونِ قلب و نظر تھا بڑے قرار میں تھے
خیال کیسے بھلا جائے گا جناں کی طرف

اشتہارات